ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو میں فلیکس، بینرس اور پوسٹرس کے خلاف اعلان جنگ، بی بی ایم پی کی نئی اشتہاری پالیسی جلد مرتب کی جائے گی 

بنگلورو میں فلیکس، بینرس اور پوسٹرس کے خلاف اعلان جنگ، بی بی ایم پی کی نئی اشتہاری پالیسی جلد مرتب کی جائے گی 

Mon, 06 Aug 2018 22:21:11    S.O. News Service

بنگلورو،6؍اگست(ایس او نیوز)شہر بھر میں غیر قانونی طورپر تشہیری مواد کو فلیکس ، بینرس ، بنٹنگس ، پوسٹرس وغیرہ کے ذریعے لگائے جانے پر بی بی ایم پی کی میٹنگ میں آج گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور حال ہی میں اس ضمن میں ہائی کورٹ کی طرف سے صادر کئے گئے احکامات کوسختی سے لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

آج بی بی ایم پی کی خصوصی میٹنگ میں اس صورتحال کا بغور جائزہ لیاگیا اور طے کیا گیا کہ بی بی ایم پی کی طرف سے ایک نئی اشتہاری پالیسی مرتب کرکے ریاستی حکومت کو دی جائے گی اور ساتھ ہی اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بی بی ایم پی کی طرف سے شہر بھر میں غیر قانونی اشتہاروں پر پابندی لگانے کا بھی فیصلہ لیاگیا۔ بی بی ایم پی حکمران اور اپوزیشن کارپوریٹروں نے عدالت کے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ شہر کی خوبصورتی کو فلیکس اور بینروں کی طرف سے متاثر کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے ، عدالت نے جو رائے ظاہر کی ہے اس کے مطابق بی بی ایم پی کارروائی کرے اور شہر میں کہیں بھی فلیکس اور بینروں کو غیر قانونی طور پر لگائے جانے پر خاطیوں کے خلاف کارروائی یقینی بنائے۔

حکمران پارٹی کے لیڈر ایم شیوراج نے اس موقع پر کہا کہ شہر بھر میں غیر قانونی فلیکس اور بینروں کی تعداد دن بدن گنتی سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ اس پر روک لگانے کے لئے فوری طور پر قدم نہیں اٹھائے گئے تو یہ شہر کی خوبصورتی کو بگاڑ دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اتنی بڑی تعداد میں فلیکس اور بیانر لگائے جارہے ہیں کہ ان کو ہٹانے کے لئے بی بی ایم پی کے پاس عملہ دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ غیر قانونی فلیکس اور بیانر لگانے والوں پر جرمانہ لگانے کے قانون کو سختی سے نافذ کیا جاناچاہئے۔ ان غیر قانونی فلیکس اور ہورڈنگس کے ذریعے بی بی ایم پی کو آمدنی بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ ودھان سودھا کے ارد گردایک کلومیٹر کے دائرے میں کہیں بھی فلیکس یا بیانر لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ شہر بھر میں بعض دکانوں پر لگائے گئے بورڈوں میں کنڑا کا استعمال نہ کیا جانا بھی تشویش کا باعث ہے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر پدمانابھا ریڈی نے شہر بھر میں فلیکس اور بینروں کو ہٹانے میں بی بی ایم پی کی کارروائی کو ناکافی قرار دیا اور کہاکہ افسروں کی لاپروائی کے نتیجے میں عدالت کو مداخلت کرنی پڑی۔انہوں نے کہا کہ ایس کے نٹراج جب شہر کے میئر تھے اسی وقت بی بی ایم پی کی اشتہاری پالیسی وضع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ 2006 اور 2011کے دوران اشتہاری مواد کے متعلق بی بی ایم پی نے بائیلا ترتیب دیا جسے آج بھی لاگو کیا جاسکتاہے۔ بی بی ایم پی اگر اس بائیلا کو سختی سے نافذ کرنے کی طرف توجہ دے تو کافی مسائل سلجھالئے جاسکتے ہیں۔ پدمانابھاریڈی نے کہا کہ شہر کے کسی بھی فلائی اوور پر فلیکس یا ہورڈنگ لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق شہر بھر میں دس ہزار سے زائد غیر قانونی تشہیری ہورڈنگس موجود ہیں ، اشتہاری کمپنیوں کی طرف سے اب تک بی بی ایم پی کو 369 کروڑ روپیوں کی رقم اب بھی ادا نہیں کی گئی ہے۔ اس رقم کی وصولی کی طرف توجہ دی جائے۔ اس موقع پر بی جے پی کے منجوناتھ راجو شانتا کماری اور دیگر نے بھی اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے غیر قانونی اشتہاروں پر سختی سے روک لگانے کی مانگ کی ۔ 


Share: